[vc_row][vc_column width=”5/6″ offset=”vc_col-lg-offset-1″][vc_empty_space height=”22px”][vc_column_text el_class=”.urdu”]
ایک ننھی سی لحد رَن میں بناتے ہیں حسینؑ
خاک میں دوسرے محسنؑ کو چھپاتے ہیں حسینؑ
| ڈالتے جاتے ہیں اصغرؑ کے بدن پر مٹی
اور خیموں کی طرف دیکھتے جاتے ہیں حسینؑ
|
ایک ننھی سی لحد رَن میں بناتے ہیں حسینؑ
خاک میں دوسرے محسنؑ کو چھپاتے ہیں حسینؑ
|
| لاشِ حُرؑ نے کہا رومال یہ دے دو جا کر
زخم بے شیر کا ہاتھوں سے چُھپاتے ہیں حسینؑ
|
مرتے دم ننھے سے ہاتھوں نے جسے تھاما تھا
اب وہ دامن علی اصغرؑ سے چُھراتے ہیں حسینؑ
|
| کہا صغریٰؑ نے کہ مرکر مِلوں گی شہہؑ سے
مجھ کو معلوم ہے ہر قبر میں آتے ہیں حسینؑ
|
ڈھونڈنے آئیں گے اِس لاش کو نیزہ بردار
چُھپ کے بانوؑ سے یہ زینبؑ کو بتاتے ہیں حسینؑ
|
| کوئی زینبؑ کو بُلا لائے تکلمؔ جاکر
برچھی اکبرؑ کے کلیجے سے چُھراتے ہیں حسینؑ
|
لاشِ عباسؑ پَہ کہتی تھیں یہ زہرہؑ رو کے
اُٹھو عباسؑ تمہیں کب بُلاتے ہیں حسینؑ
|
(میر تکلمؔ میر)[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]
Leave a Reply
Comments powered by Disqus