خوشیاں مناؤ لوگوں شعبان آ گیا ہے

اک ساتھ لے کے کتنے قرآن آ گیا ہے

شاہی لرز رہی ہے ہل چل مچی ہوئی ہے پہلی کو اسکی بنت حیدر ؑ جو آ گئی ہے قصرِ یزیدیت میں طوفان آ گیا ہے اہل عزا جہاں میں خوشیاں منا رہے ہیں درد و الم کے مارے سب کو بتا رہے ہیں رحمت کا ماہ قبل رمضان آ گیا ہے
آیات آ رہی ہیں کرنے کو پیشوائی شعبان کی تیسری کو اسکی ہے رونمائی جبریلؑ جس پہ ہونے قربان آ گیا ہے مردے کی طرح گھر میں سیدھے پڑے ہوئے ہیں پہلی سے شیخ صاحب پیلے پڑے ہوئے ہیں تشخیص میں مرض کی یرقان آ گیا ہے
چوتھی کو اسکی آیا جو ہے وفا کا کعبۂ ام البنینؑ ماں ہیں حیدر ؑ ہے جسکا بابا یعنی علیؑ کے گھر کا عمرانؑ آ گیا ہے جاتے زمین کی جانب دیکھا جو ساتھیوں کو فطرس تڑپ کے بولا مجھکو بھی ساتھ لے لو پر مجھکو دینے والا پردان آ گیا ہے

 

 خوشیاں منائے کیوں نہ گھر آج پنجتنؑ کا آیا ہے ساتویں کو وہ لاڈلا حسن ؑ کا خود جسکا صدقہ لینے رضوان آ گیا ہے بولے علیؑ یہ لے کر گودی میں با وفا کو جنت سے آ کے سر پر اک بار ہاتھ رکھ دو زہرہؑ تمہارے دل کا ارمان آ گیا ہے
 موقع ملا ہے کر لے طے معرفت کا زینہ – کر شکر رب کا اکبرؔ یہ فاطمیؑ مہینہ – پھر تیری زندگی کے دوران آ گیا ہے جو سبکو دیکھتا ہے غیبت میں ہےبظاہر , اس ماہ کی پندروہیں کو وہی امام آخرؑ – عدل خدا کی لے کر میزان آ گیا ہے

(حسنین اکبرؔ)

Share in
Tagged in